جمعرات، 30 مارچ، 2017

لالہ و گل کی تمنا کر کے ہم۔ از کلیم عاجزؔ

لالہ و گل کی تمنا کر کے ہم۔ از کلیم عاجزؔ


کچھ سجے ہیں زلف میں کچھ گلوئے یار میں۔ از کلیم عاجزؔ

کچھ سجے ہیں زلف میں کچھ گلوئے یار میں۔ از کلیم عاجزؔ


کچھ حال نہ پوچھو عاجز کا کمبخت عجب دیوانہ ہے۔ از کلیم عاجز

کچھ حال نہ پوچھو عاجز کا کمبخت عجب دیوانہ ہے۔ از کلیم عاجز


کوئی محفل ہے نہ کوئی انجمن میرے لئے۔ از کلیم عاجزؔ

کوئی محفل ہے نہ کوئی انجمن میرے لئے۔ از کلیم عاجزؔ


جو قطرے لہو کے نہ آنکھوں سے ڈھلکے۔ از کلیم عاجز

جو قطرے لہو کے نہ آنکھوں سے ڈھلکے۔ از کلیم عاجز