لالہ و گل کی تمنا کر کے ہم۔ از کلیم عاجزؔ
کچھ سجے ہیں زلف میں کچھ گلوئے یار میں۔ از کلیم عاجزؔ
کچھ حال نہ پوچھو عاجز کا کمبخت عجب دیوانہ ہے۔ از کلیم عاجز
کوئی محفل ہے نہ کوئی انجمن میرے لئے۔ از کلیم عاجزؔ
جو قطرے لہو کے نہ آنکھوں سے ڈھلکے۔ از کلیم عاجز
حرم والے یا دیر والے ہوئے ۔ کلیم عاجز
ہمارے ہونٹوں تک آٓئے ترانہ ! مشکل ہے۔ کلیم عاجزؔ
غم اور بھی گرچہ اے غمِ یار بہت ہیں۔ کلیم عاجزؔ
دوست ہیں آشفتہ گوئی کو غزل جانے ہوئے۔ کلیم عاجزؔ
دن میرا ساز بنے رات غزل بن جائے۔ کلیم عاجزؔ