‏Ghazal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Ghazal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 15 اپریل، 2017

Ghazal By Dr Kaleem Ajiz R.A

زلف جو آج تا بہ شانہ ہے - کل کہاں ہوگی کیا ٹھکانہ ہے



Ghazal by Kaleem Aajiz R.A

مرے آشیاں سے دھواں اٹھا تو مجھے بھی اس کی خبر ہوئی



Ghazal by Kaleem Aajiz

خرد کھیل سمجھی ہے دیوانہ پن کو
جو کرتے ہیں دیوانہ پن جانتے ہیں



Ghazal by kaleem Aajiz R.A

اگر تیری محفل ہماری نہیں ہے ترا آستاں بھی ہمارا نہیں ہے


بدھ، 5 اپریل، 2017

Ghazal By Kaleem Aajiz R.A

تنگ آکے روز روز کے اصرار سے چلےلو  ہم   تمہاری   سایہ   دیوار  سے   چلے



Ghazal By Dr Kaleem Aajiz R.A

جان ہی دینی پڑی شرحِ وفا کے واسطےبات نازک تھی بڑی مشکل سے سمجھائی کئی



منگل، 4 اپریل، 2017

Ghazal by Dr Kaleem Ajiz R.A


پھولوں سے محبت ہے تقاضائے طبیعت 
کانٹوں  اُلجھنا  تو  نہیں  کام   ہمارا
Dr Kaleem Aajiz ki ek khubsurat ghazal

Ghazal by Dr kaleem Aajiz R.A

وہ اورہیں جنہیں برسات کی تمنا ہے
یہاں تو آنسووں کی رات دن جھماجھم ہے

Dr Kaleem Aajiz ki ki ek Khubsurat Ghazal

Ghazal by Dr Kaleem Aajiz

لالہ و گل پہ باغباں تہمتِ سرکشی نہ رکھ
میں ہوں چمن کا رازداں مجھ سے یہ بہانہ نہ کر


Ghazal by Dr Kaleem Aajiz R.A

اس ناز کے قربان اِس انداز کے صدقے
گھر بیٹھے ہو اور شہر میں کہرام پڑا ہے


Dr Kaleem Aajiz R.A Ki ek khubsurat Ghazal

Ghazal By Dr. Kaleem Aajiz R.A

وہ ہمیں وضعداری سِکھانے چلے
جن سے اپنا ہی دامن سنبھلتا نہیں

پدم شری ڈاکٹر کلیم عاجز ؔؒ کی ایک خوبصورت غزل

جمعرات، 30 مارچ، 2017

لالہ و گل کی تمنا کر کے ہم۔ از کلیم عاجزؔ

لالہ و گل کی تمنا کر کے ہم۔ از کلیم عاجزؔ


کچھ سجے ہیں زلف میں کچھ گلوئے یار میں۔ از کلیم عاجزؔ

کچھ سجے ہیں زلف میں کچھ گلوئے یار میں۔ از کلیم عاجزؔ


کچھ حال نہ پوچھو عاجز کا کمبخت عجب دیوانہ ہے۔ از کلیم عاجز

کچھ حال نہ پوچھو عاجز کا کمبخت عجب دیوانہ ہے۔ از کلیم عاجز


کوئی محفل ہے نہ کوئی انجمن میرے لئے۔ از کلیم عاجزؔ

کوئی محفل ہے نہ کوئی انجمن میرے لئے۔ از کلیم عاجزؔ


جو قطرے لہو کے نہ آنکھوں سے ڈھلکے۔ از کلیم عاجز

جو قطرے لہو کے نہ آنکھوں سے ڈھلکے۔ از کلیم عاجز